اب کوئی حرف مدعا ہی نہیں
بات کرنے کا فائدہ ہی نہیں
جو میری زندگی کا حاصل تھا
اب اسے مجھ سے واسطہ ہی نہیں
اس سے چارہ گری کی امیدیں
یہ میرا جرم تھا٬ خطا ہی نہیں
آدمی خواہشوں کا مدفن ہے
وجہ تخلیق سوچتا ہی نہیں
عمر دشت طلب میں کاٹی ہے
اپنی دہلیز کا پتہ ہی نہیں
جو میرے زخم بھرنے آیا تھا
دل کی بستی میں وہ گیا ہی نہیں
چہروں پہ مسکراہٹیں رقصاں
تاب احساس کی صدا ہی نہیں