وحدت و وجد میں گما تھا میں
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالوحدت و وجد میں گما تھا میں
آدمی تھا یا پھر خدا تھا میں؟
میرے سب نوحہ خوان دوست رہے
اُن کے دکھڑوں پہ چیختا تھا میں
عرش تک سکھ نے چھان مارا مجھے
پہلوئے رنج میں پڑا تھا میں
دل میں خلقت کے راز دفن کیے
دارِ خاموشی پر چڑھا تھا میں
شب گھر اتنا ڈراؤنا تھا مرا
دیکھ کر خود کو ڈر گیا تھا میں
میرے دُکھ درد مجھ سے تھے بیزار
خود سے مایوس پھر رہا تھا میں
تشنگی چھین کر ہر اِک لب کی
تشنہ کامی کی انتہا تھا میں
اپنے جذبات پر جو نادم ہو
کیا تمہارا کوئی گنہ تھا میں؟
راست گوئی پہ اب یقین آیا
پہلے بکواس کر رہا تھا میں
ہر کسی کے لیے ہوا میں عذاب
آدمی تھا یا بددعا تھا میں
دیر سے پوچھنے کو آئے ہیں
مدّتوں پہلے مر گیا تھا میں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






