کیا بچھڑ کر کروں گلہ جاناں

Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوال

کیا بچھڑ کر کروں گلہ جاناں
تھا مقدر کا فیصلہ جاناں

کبھی فُرصت سے لو خبر میری
آزمانا بھی صبر کیا جاناں

بسترِ مرگ پر کوئی بیمار
ایڑیاں ہے رگڑ رہا جاناں

فقط اِک لمحۂِ جدائی کا
مدتوں غم مجھے رہا جاناں

تھی وہ مجبور بھی مسیحائی
زخم رنجش نہیں بھرا جاناں

تم جو اک پل جدا نہیں مجھ سے
درمیاں کیوں ہے فاصلہ جاناں

مجھ میں آخر ہے کون جو مجھ سے
ہے نہایت گریزپا جاناں

میری محرومیوں کو سمجھے کون
اور وہ تم سے بھی سوا جاناں

صدمۂِ ہجر پر دلاسا مجھے
قیس نے بھی بہت دیا جاناں

حال دیکھا جو میر و غالب نے
اُن کو صدمہ بہت ہُوا جاناں

زہر تھی حق میں زندگانی بھی
نہ جیا نہ ہی مر سکا جاناں

بِن ترے کتنی بے امانی ہے
کیا یہاں ہے کوئی خدا جاناں؟

کس نے لوح و قلم پہ لکھّا تھا
بے ملے جو ہوئے جدا جاناں

کتنا چیخوں میں کس سے شکوہ کروں؟
چھل گیا ہے مرا گلا جاناں

آسماں تک بس اِک نظر کر کے
دِل تڑپ کر ہی مر گیا جاناں

Rate it:
Views: 954
02 Aug, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL