کیا بچھڑ کر کروں گلہ جاناں
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالکیا بچھڑ کر کروں گلہ جاناں
تھا مقدر کا فیصلہ جاناں
کبھی فُرصت سے لو خبر میری
آزمانا بھی صبر کیا جاناں
بسترِ مرگ پر کوئی بیمار
ایڑیاں ہے رگڑ رہا جاناں
فقط اِک لمحۂِ جدائی کا
مدتوں غم مجھے رہا جاناں
تھی وہ مجبور بھی مسیحائی
زخم رنجش نہیں بھرا جاناں
تم جو اک پل جدا نہیں مجھ سے
درمیاں کیوں ہے فاصلہ جاناں
مجھ میں آخر ہے کون جو مجھ سے
ہے نہایت گریزپا جاناں
میری محرومیوں کو سمجھے کون
اور وہ تم سے بھی سوا جاناں
صدمۂِ ہجر پر دلاسا مجھے
قیس نے بھی بہت دیا جاناں
حال دیکھا جو میر و غالب نے
اُن کو صدمہ بہت ہُوا جاناں
زہر تھی حق میں زندگانی بھی
نہ جیا نہ ہی مر سکا جاناں
بِن ترے کتنی بے امانی ہے
کیا یہاں ہے کوئی خدا جاناں؟
کس نے لوح و قلم پہ لکھّا تھا
بے ملے جو ہوئے جدا جاناں
کتنا چیخوں میں کس سے شکوہ کروں؟
چھل گیا ہے مرا گلا جاناں
آسماں تک بس اِک نظر کر کے
دِل تڑپ کر ہی مر گیا جاناں
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






