وزیر اعظم سے گزارش ہے
Poet: purki By: m.hassan, karachiاللہ نے بخشا ہے یہ آخری موقعہ جلدی کر ایسا کوئی کارنامہ
لوگ دل سے ہمیشہ یاد رکھے تجھکو کہ تُونے کیا کمال کردیا
اس سے پہلے کہ تیرا وقت ختم ہوجیسے اس سے قبل ہواتھا
جو مہلت ملے اُسے ایک غنیمت جانو اور اپنی ایک تاریخ بنا دو
ایسی حکومت جودلوں پرہو صرف جسموں تک محدود نہ ہو
فرعونیت،یزیدیت اور چنگیزیت کو بُھلا کر صرف انسانیت کویاد رکھو
انسانوں کے دکھوں پر مرہم رکھ کر اس ملک کی تعمیر کرو
بلا تعصب سب کے کام آکر وطن کے در و بام کو سجادو
مزہب قومیت لسانیت اور علاقائیت کے تمام بتوں کو توڑ کر
پھر سے اخوت کی زنجیر میں اس ملک کے لوگوں کو لے آؤ
یہ کام جب اوپر سے ہوگا تو جلد اور موثر ہوگا
سب کے دلوں کو جوڑو اور عدل و انصاف کی حکومت قائم کرو
ملک کے وسائل اُن میں بانٹو جن کے پاس کچھ بھی نہ ہو
بھرے ہوئے پیٹوں کو بھرنا چھوڑو اللہ اور رسول کا حکم مانو
حکمران اپنی اپنی دولت باہر سے لے آؤ
جتنا پیسہ اب تک لوٹا ہے سرکاری خزانے میں جمع کراؤ
جتنے لٹیرے اسمبلی میں بیٹھے ہیں ان سب کو کک آؤٹ کرو
عوام کے پیسوں پر عیاشی کرنے والوں کو سر عام پھانسی پر لٹکاؤ
قاتلوں چوروں ڈاکوؤں کو عبرت کا نشان بناؤ
اسلامی قصاص کو پورے ملک کا آئین بناؤ
وزیر اعظم سے یہ میری گزارش ہے
کسی ظالم کو نہ بخشو یہی میری سفارش ہے
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






