وقت کے ساتھ ساتھ مسکرانا بھول گیا ہوں
Poet: Shaikh Khalid Zahid By: Shaikh Khalid Zahid, Karachiوقت کے ساتھ ساتھ مسکرانا بھول گیا ہوں
شائد اس کو یاد جو آنا بھول گیا ہوں
یہ بات بھی اسکو بتانا بھول گیا ہوں
اب میں روٹھنا منانا بھول گیا ہوں
زمانے بیت گئے ہوں خود سے ملاقات کئے
بھیج کر کہیں خود کو بلانا بھول گیا ہوں
گستاخ کہہ کر بزم سے نکالا جا رہا ہوں
شائد نظروں کو جھکانا بھول گیا ہوں
بہت خوفزدہ، سہمی سی آئی تھی نیند
آنکھوں میں اسکو بسانا بھول گیا ہوں
ملاقات کا وعدہ کر کہ تو آگیا ہوں
نا ملنے کا بہانا بنانا بھول گیا ہوں
گمنام راستوں میں کوئی بھٹکتا ہے
رستہ جسکو بتانا بھول گیا ہوں
ڈوبنے سے مجھکو روک رہا ہے خالد
جسے گھر چھوڑ کے آنا بھول گیا ہوں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






