وہ انسان کہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔٢
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillاپنوں کے ہاتھوں روکی گئی سانسیں بھی انکی
گھوڑوں کے نیچے کچلی گئیں لاشیں بھی انکی
آئے کئی نپولین و سیزر و قیصر
گزرے ہیں کئی پورس و دارا و سکندر
قاسم کئی معتوب ہوئے اہل جفا کے
محمود کئی گزرے سومنات گرا کے
غداروں نے ڈبویا ہے اہل جنون کو
اپنے ہی بیچ کھاتے ہیں ٹیپو کے خون کو
رنگ و نسل کے سلسلے اور خون کی باتیں
تہذیب نے عطا کی ہیں یہ عجب سوغاتیں
شور معاشیات کبھی اقتصادیات
چہرے نئے سجا کے آئی ہیں فرعونیات
سود و زیاں کے پر فریب رنگوں میں ڈھل کے
غارت گران شہر آئے بھیس بدل کے
شان و حشم ۔ جلال و فخر استعمار پر
انسان پھر رہا ہے یہ کس خارزار پر
پنہاں ہیں ناگ دلنشیں رنگیں قباؤں میں
شیطان چھپا بیٹھا ہے تازہ خداؤں میں
مزدور کہاں ہے تیرا دہقان کہاں ہے
پروردگار وہ میری پہچان کہاں ہے
وہ روح کہاں ہے میرا وجدان کہاں ہے
جو ڈھونڈتا ہے دل میرا وہ شان کہاں ہے
آتے ہیں نظر مجھ کو بھی یہ مٹی کے پتلے
جو تیرا خلیفہ تھا وہ انسان کہاں ہے
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






