وہ بھی نہیں

Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہ

پناہ دے گا، کوئی سائباں تو وہ بھی نہِیں
ہمیں فنا ہے مگر جاوِداں تو وہ بھی نہِیں

ہمارے پیار کی ناؤ پھنسی ہے بِیچ بھن٘ور
بچا کے لائے کوئی بادباں تو وہ بھی نہِیں

جو سچ کہیں تو خزاں اوڑھ کے بھی خُوش ہیں بہُت
نہِیں اُجاڑ مگر گُلسِتاں تو وہ بھی نہِیں

جہاں تلک بھی گئی آنکھ رِند بیٹھے تھے
نوازے سب کو جو پیرِ مُغاں تو وہ بھی نہِیں

تُمہارا پیار تھا مشرُوط لوٹنے سے مِرے
نِبھاؤ عہد ابھی درمیاں تو "وہ" بھی نہِیں

نظر میں ہو تو کہِیں ہم پلٹ کے نا دیکھیں
کِسی بہار کا ایسا سماں تو وہ بھی نہِیں

ہمارا نام حوالہ ہی اِس میں رنگ رہا
وگرنہ ایسی کوئی داستاں تو وہ بھی نہِیں

جو ایک شخص تُمہیں شاعری میں دِکھتا ہے
شریکِ شعر سہی ترجماں تو وہ بھی نہِیں

رشِید کی بھلا توصِیف کیا ضرُوری ہے؟
کرے ہے شاعری جادُو بیاں تو وہ بھی نہِیں

Rate it:
Views: 311
23 Apr, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL