وہ بھی کیا لوگ تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIوہ بھی کیا لوگ تھے آسان تھی راہیں جنکی
بند آنکھیں کیے اک سمت چلے جاتے تھے
عقل و دل خواب و حقیقت کی الجھن نہ خلش
مختلف جلوے نگاہوں کو نہ بہلاتے تھے
عشق سادہ بھی تھا بیخود بھی جنوں پاش بھی تھا
حسن کو اپنی اداؤں پہ حجاب آتا تھا
پھول کھلتے تھے تو پھولوں میں نشہ ہوتا تھا
رات ڈھلتی تھی تو شیشوں پہ شباب آتا تھا
چاندنی کیف اثر روح افزا ہوتی تھی
ابر آتا تو بدمست بھی ہو جاتا تھا
دن میں شورش بھی ہوا کرتی تھی ہنگامہ بھی
رات کی گود میں منہ ڈھانپ کے سو جاتے تھے
نرم رو وقت کے دھارے پہ سفینے تھے رواں
ساحل و بحر کے آئین نہ بدلتے تھے کبھی
ناخداؤں پہ بھروسہ تھا مقدر پہ یقین
چادر آب سے طوفان نہ ابلتے تھے کبھی
ہم کہ طوفان کے پالے بھی ستائے بھی ہیں
برق و باراں میں وہی شمعیں جلائیں کیسے
یہ جو آتش کدہ دنیا میں بھڑک اٹھا ہے
آنسوؤں سےاسے ہر باربجھائیں کیسے
کر دیا برق و بخارات نے محشر برپا
اپنے دفتر میں لطافت کے سوا کچھ بھی نہیں
یہ اندھیرا یہ تلاطم یہ ہواؤں کا خروش
اس میں تاروں کی سبک نرم ضیاء کیا کرتی
تلخئی زیست سے کڑوا ہوا عاشق کا مزاج
نگاہ یار کی معصوم ادا کیا کرتے
سفر آسان تھا تو منزل بھی بڑی روشن تھی
آج کس درجہ پراسرار ہیں راہیں اپنی
کتنی پرچھائیاں آتی ہیں تجلی بن کر
کتنے جلوؤں سےالجھتی ہیں نگاہیں اپنی
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






