وہ رستے ہمارے جُدا سوچتے ہیں
Poet: عامر ثقلین By: عامر ثقلین , Arifwalaوہ رستے ہمارے جُدا سوچتے ہیں
حقیقت سے ہیں آشنا سوچتے ہیں
بہم سامنے ہم کبھی بھی نہ آئیں
وہ ہیں اتنے مجھ سے خفا سوچتے ہیں
کوئی نام بھی میرا محفل میں نہ لے
یہی دل میں وقتِ دعا سوچتے ہیں
نہیں کرتے یہ سوچ کہ چاند کی دید
ملی مثل میری جفا سوچتے ہیں
گلہ سوچتے ہیں جو شب بھر ہے کرنا
گلہ وہ ہی پہلے کِیا سوچتے ہیں
نہ لے جائے خط میرا قاصد وہاں پر
ہمیشہ یہ میرے پیا سوچتے ہیں
عیاں ہے میرے دل پہ شیشے کی مانند
جو چہرہ وہ اپنا چھپا سوچتے ہیں
ہیں شرماتے جب دیکھتے ہیں وہ شیشہ
مجھے پاس اپنے وہ کھڑا سوچتے ہیں
رہیں گے روابط ہمارے ہمیشہ
یہی لوگ سب با وفا سوچتے ہیں
وہ عامر کے بارے میں کیا سوچتے ہیں
کبھی اچھا اکثر بُرا سوچتے ہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






