نغمات تمہیں کوئی
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہ
آنکھوں میں نہ پڑ جائے برسات تُمہیں کوئی
بخشے ہے نئی وحشت ہر رات تُمہیں کوئی
بس اِتنا سمجھ لیجے وابستہ نہِیں تُم سے
بتلا تو نہِیں سکتا ہر بات تُمہیں کوئی
آ جاؤ گھڑی بھر کو ماضی میں پلٹ جائیں
کل مُجھ سے جھپٹ لے گی بارات تُمہیں کوئی
ہو شِیرِیں سُخن ایسے، لب لعلِ یمنؔ جیسے
دِل تُم کو کہے کوئی، جذبات تُمہیں کوئی
ہے وقت کڑا، دیکھیں کیا فیصلہ آتا ہے
دُھتکارے تُمہیں، رکھ لے یا سات تُمہیں کوئی
ہر گام دُعا یہ ہے آرام قدم چُومے
پیش آئے کِسی صُورت نا مات تُمہیں کوئی
اِک حُسن کرِشمہ ہو، شہکار مُصوّر کا
بس دان کرے ہر پل نغمات تُمہیں کوئی
تفرِیق کرو خُود ہی ہے کون کھرا اِن میں
اسباب فقط سونپے یا ذات تُمہیں کوئی
مُسکان رہی لب پر ہر زخم رکھا مخفی
حسرتؔ نہ جُھکا پائے، حالات تُمہیں کوئی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






