وہ مجھ سے بدلہ لے گیا

Poet: رعنا کنول By: Rana Kanwal, Islamabad

درد عمر بھر کا دے گیا
وہ مجھ سے بدلہ لے گیا

وفا کے وعدے کو توڑ گیا
یادوں کی تڑپ میں چھوڑ گیا
میرے دکھوں کو روند گیا
وہ مجھ سے بدلہ لے گیا

روگ دل کو ایسا لگا گیا
نہ سہا جائے نہ جیا جائے
پل پل کا رونا دے گیا
وہ مجھ سے بدلہ لے گیا

طعنے ہزار دے گیا
تہماتیں بےشمار لگا گیا
سچائی کو میری جھٹلا گیا
وہ مجھ سے بدلہ لے گیا

پاکی پے میری سوال اٹھا گیا
چادر کو جواز بنا گیا
اس بات پے اپنا ہاتھ چھڑا گیا
وہ مجھ سے بدلہ لے گیا

لفظوں کی چوٹ لگا گیا
بد زبانی کا ستم ڈہ گیا
کنول فریاد تیری کو ٹھکرا گیا
وہ تجھ سے بدلہ لے گیا

درد عمر بھر کا دے گیا
وہ مجھ سے بدلہ لے گیا

Rate it:
Views: 779
17 Apr, 2019
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL