وہ مجھ سے روٹھ جانا
Poet: Saadat Amin Satti By: Saadat Amin Satti, abudhabiکیا اب بھی تیری سادگی مشہور ہے
مجھے یاد ہے ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ ہو
کیا اب بھی سجتے ہیں جوڑے میں گلابی پھول
مجھے یاد ہے ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ ہو
وہ تیرا بار بار روٹھ جانا اور خود مان جانا
مجھے یاد ہے ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ ہو
وہ کاغذ کی کشتیاں وہ بارش کا پانی
وہ میرا سمجھانا وہ تیری نادانی
مجھے یاد ہے ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ ہو
وہ کسی کا آنا اور چھپ کے گھبرانا
وہ باندھ کے پٹیاں وہ جھوٹا زخم دیکھانا
مجھے یاد ہے ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ ہو
وہ ٹھنڈی ہوا میں میرے پہنچے چھپ جانا
کبھی مان جانا کبھی خوب مجھ کو ستانا
مجھے یاد ہے ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ ہو
وہ بارش میں تو آتی جب مجھ سے ملنے
وہ تیرا گھبرانا اور ساتھ لپٹ جانا
مجھے یاد ہے ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ ہو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







