وہ کون لوگ ہیں جو مے ادھار لیتے ہیں
Poet: ریاضؔ خیرآبادی By: ہارون فضیل, Rawalpindiوہ کون لوگ ہیں جو مے ادھار لیتے ہیں
یہ مے فروش تو ٹوپی اتار لیتے ہیں
یہ پاس پردہ نشینوں کا ہے کہ نالے بھی
جو اونچے ہوتے ہیں پردہ پکار لیتے ہیں
وہ کہتے ہیں ابھی اللہ اتنی طاقت ہے
جو کروٹیں کبھی ہم بے قرار لیتے ہیں
بچائیں گے گل و بلبل کو دام گلچیں سے
جو کوئی پہنچے تو فصل بہار لیتے ہیں
یہی ہیں کام نکلتا ہے جن کا بے طاعت
مزے کرم کے ترے شرمسار لیتے ہیں
اترتے عرش سے ڈرتا ہے تو دعا والے
اثر کو ہاتھ بڑھا کر اتار لیتے ہیں
شراب کے لیے مے نوش منہ ہیں پھیلائے
جمھائیاں نہیں وقت خمار لیتے ہیں
گناہ گار ہیں اتنے ہی ان بتوں کے ہم
کہ پانچ وقت خدا کو پکار لیتے ہیں
جما یہ رنگ کہ اب وقت زمزمہ سنجی
چمن میں مجھ کو عنادل پکار لیتے ہیں
پئے ہوں کتنی ہی لیکن یہ ہوش رہتا ہے
کہ سوتے وقت وہ زیور اتار لیتے ہیں
ریاضؔ باتوں میں اپنی اگر نہیں جادو
پری کو شیشے میں یوں ہی اتار لیتے ہیں
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






