درد ہو تو دوا کرے کوئی

Poet: ریاضؔ خیرآبادی By: محمد رضوان, Multan

درد ہو تو دوا کرے کوئی
موت ہی ہو تو کیا کرے کوئی

نہ ستائے کوئی انہیں شب وصل
ان کی باتیں سنا کرے کوئی

بند ہوتا ہے اب در توبہ
در مے خانہ وا کرے کوئی

قبر میں آ کے نیند آئی ہے
نہ اٹھائے خدا کرے کوئی

تھیں یہ دنیا کی باتیں دنیا تک
حشر میں کیا گلا کرے کوئی

نہ اٹھی جب جھکی جبین نیاز
کس طرح التجا کرے کوئی

بوسہ لیں غیر دیں سزا ہم کو
ہم ہیں مجرم خطا کرے کوئی

بگڑے گیسو تو بولے جھنجھلا کر
نہ بلائیں لیا کرے کوئی

نزع میں کیا ستم کا موقع ہے
وقت ہے اب دعا کرے کوئی

حشر کے دن کی رات ہو کہ نہ ہو
اپنا وعدہ وفا کرے کوئی

نہ ستائے کوئی کسی کو ریاضؔ
نہ ستم کا گلا کرے کوئی

Rate it:
Views: 613
02 Feb, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL