ساتھ اپنے کوئی پیغام تو لاتی خوشبو
وہ ہے کس حال میاتنا تو بتاتی خوشبو
ہے تعفن کا باسیرا میرے گلزاروںمیں
ان پہ اے کاش کوئی پھول لٹاتی خوشبو
اب تو بے نام مسافت ھی مقدر ٹھہری
اپنی منزل ہے کہاں یہ تو بتاتی خوشبو
ریگزاروں میں یہ دیوانے جسے ڈھونڈتے ہیں
ان کو اے کاش کوئی جلوا دکھاتی خوشبو
زندگی بھر اسے پردیس نہ جانے دیتا
میرے آنگن میں جو شاہد کبھی آتی خوشبو