پرکھوں کی بو باس لیے پھرتا ہوں

Poet: شاہد By: شاہد, Attock

پرکھوں کی بو باس لیے پھرتا ہوں
مٹھی بھر احساس لیے پھرتا ہوں

چاروں اور سمندر اور میں پل پل
ایک انجانی پیاس لیے پھرتا ہوں

رام کو تو بن باس لیے پھرتا تھا
میں خود میں بن باس لیے پھرتا ہوں

محفل محفل خیمہ زن مایوسی
منزل منزل آس لیے پھرتا ہوں

ہر موسم کا کرب چھپا ہے مجھ میں
میں ہر رت کی پیاس لیے پھرتا ہوں
 

Rate it:
Views: 65
08 Oct, 2025