پھر ترا رنگ ، ترا روُپ چرا لایا ہے

Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UK

پھر ترا رنگ ، ترا روُپ چرا لایا ہے
اب کے ساون تری چاہت کی ادا لایا ہے

کچھ تو رکھ لیجے بھرم آپ مری چاہت کا
چھوڑ کر سارا جہاں آپ کو اپنایا ہے

نہ کیا دل نے مگر ترکِ تعلق تم سے
لاکھ ہم نے دلِ نادان کو سمجھایا ہے

یہ مرے صبر کا اعجاز ہی ہوگا شائد
بعد مدت کے اسے میرا خیال آیا ہے

یہ بھی طوفان کی معصوم شرارت ہو گی
ساتھ اپنے جو کئی پھول اڑا لایا ہے

چاہتیں اپنی سبھی جس پہ نچھاور کر دیں
لمحہ لمحہ مجھے اُس شخص نے ترسایا ہے

جب بھی محسوس ہوا تجھ کو ہے پانا مشکل
میں نے دل اپنا ترے خوابوں سے بہلایا ہے

آج اپنوں کی محبت بھی مرے ساتھ نہیں
میری تقدیر نے کیا دن مجھے دکھلایا ہے

آج بھی رحم کی اس سے ہے توقع مجھ کو
جس نے زندہ مجھے دیوار میں چنوایا ہے

موسمِ گل ترے آنے کی خبر دیتا ہے
سرد جھونکا ترا پیغام کوئی لایا ہے

کون سمجھاۓ اسے میری حقیقت عذراؔ
میں نے کھویا ہے بہت کچھ تو اسے پایا ہے

Rate it:
Views: 651
22 May, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL