پھر ترا رنگ ، ترا روُپ چرا لایا ہے
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKپھر ترا رنگ ، ترا روُپ چرا لایا ہے
اب کے ساون تری چاہت کی ادا لایا ہے
کچھ تو رکھ لیجے بھرم آپ مری چاہت کا
چھوڑ کر سارا جہاں آپ کو اپنایا ہے
نہ کیا دل نے مگر ترکِ تعلق تم سے
لاکھ ہم نے دلِ نادان کو سمجھایا ہے
یہ مرے صبر کا اعجاز ہی ہوگا شائد
بعد مدت کے اسے میرا خیال آیا ہے
یہ بھی طوفان کی معصوم شرارت ہو گی
ساتھ اپنے جو کئی پھول اڑا لایا ہے
چاہتیں اپنی سبھی جس پہ نچھاور کر دیں
لمحہ لمحہ مجھے اُس شخص نے ترسایا ہے
جب بھی محسوس ہوا تجھ کو ہے پانا مشکل
میں نے دل اپنا ترے خوابوں سے بہلایا ہے
آج اپنوں کی محبت بھی مرے ساتھ نہیں
میری تقدیر نے کیا دن مجھے دکھلایا ہے
آج بھی رحم کی اس سے ہے توقع مجھ کو
جس نے زندہ مجھے دیوار میں چنوایا ہے
موسمِ گل ترے آنے کی خبر دیتا ہے
سرد جھونکا ترا پیغام کوئی لایا ہے
کون سمجھاۓ اسے میری حقیقت عذراؔ
میں نے کھویا ہے بہت کچھ تو اسے پایا ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






