پھر ترا رنگ ، ترا روُپ چرا لایا ہے
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKپھر ترا رنگ ، ترا روُپ چرا لایا ہے
اب کے ساون تری چاہت کی ادا لایا ہے
کچھ تو رکھ لیجے بھرم آپ مری چاہت کا
چھوڑ کر سارا جہاں آپ کو اپنایا ہے
نہ کیا دل نے مگر ترکِ تعلق تم سے
لاکھ ہم نے دلِ نادان کو سمجھایا ہے
یہ مرے صبر کا اعجاز ہی ہوگا شائد
بعد مدت کے اسے میرا خیال آیا ہے
یہ بھی طوفان کی معصوم شرارت ہو گی
ساتھ اپنے جو کئی پھول اڑا لایا ہے
چاہتیں اپنی سبھی جس پہ نچھاور کر دیں
لمحہ لمحہ مجھے اُس شخص نے ترسایا ہے
جب بھی محسوس ہوا تجھ کو ہے پانا مشکل
میں نے دل اپنا ترے خوابوں سے بہلایا ہے
آج اپنوں کی محبت بھی مرے ساتھ نہیں
میری تقدیر نے کیا دن مجھے دکھلایا ہے
آج بھی رحم کی اس سے ہے توقع مجھ کو
جس نے زندہ مجھے دیوار میں چنوایا ہے
موسمِ گل ترے آنے کی خبر دیتا ہے
سرد جھونکا ترا پیغام کوئی لایا ہے
کون سمجھاۓ اسے میری حقیقت عذراؔ
میں نے کھویا ہے بہت کچھ تو اسے پایا ہے
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






