پھر آگیا ہوں ، اب نہ روکا تم نے ، تو پھر واپس نہ آ ؤں گا
Poet: Humera Sajid By: Humera Sajid, Lahoreپھر آگیا ہوں ، اب نہ روکا تم نے ، تو پھر واپس نہ آ ؤں گا
اب گیا تو تمہارا شہر نہیں ، یہ ملک ہی چھوڑجاؤں گا
ایک ایک کر کے سب ساتھ چھو ڑ گئے ،تمہا را پیا ر مجھے کہا ں روکے ہوے ہے
اگر تم نے میراساتھ ہے چھوڑ کر جانا،تو پھر یہاں رہ کر میں کیا کروں گا
روک لو مجھے اگر زند گی کا ساتھ چاہیے اور سچا پیار چاہیے
یہ تو منافکوں کی دنیا ہے ،میں تو دل سے ہمیشہ تمیں چا ہوں ٖگا
مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ اگر کوئی تمہیں دل سے چاہنے والا نہ ملاتو
دیکھ کر یوں تڑپتا تمیں میں تو ساری عمر روتا ہی رہو ں گا
تمہاری زندگی کا ساتھی ، چھوڑگیا اگر راہ میں تمیں
دل تو ڑا اگر کسی نے تمہارا ،تو میں یہ دیکھ کر برداشت کیسے کروں گا
آج وفا کی کوئی قدرو قیمت ،دو قدم چل کر سا تھ چھو ڑ جاتے ہیں لوگ
تمہیں چھوڑ گیا اگر کوئی تو میں تمہیں تنہا کیسے دیکھ پاؤ ں گا
مجھے بس فکر ہے تمہاری کہ تمہیں کوئی عمر ساتھ نبھانے والا مل جائے
مجھے اپنی فکر تونہیں ،میں تو جس کا بنا ،ساری عمر اسی کا رہو گا
وقت جیسا چلن ہے میرا جانتی ہوکہ وقت جا کر واپس کبھی آتا نہیں
اس آس پر مجھے آج نہ کھونا کہ کل شاید کسی موڑ پر تمہیں مل ہی جاؤں گا
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






