پھول مانگے ہیں نہ کانٹوں سے شکایت کی ہے
Poet: m,masood By: m,masood, nottinghamپھول مانگے ہیں نہ کانٹوں سے شکایت کی ہے
میں نے ہر حال میں اوروں سے محبت کی ہے
میں نے بہتے ہوۓ دریا کو کنارا سمجھا
بے سہاروں کو بھی اپنا سہارا سمجھا
بات سمجھی نہ زمانے کا اشارا سمجھا
اپنے دشمن کو بھی جان سے پیارا سمجھا
جب بھی دنیا کی روایت سے بغاوت کی
میں نے ہر حال میں اوروں سے محبت کی ہے
اپنے احساس کی دولت کو گنوایا بھی نہیں
ایک دن جس سے ملا اس کو بھلایا بھی نہیں
کوئ اپنا بھی نہیں اور پرایا بھی نہیں
دھوپ قسمت میں نہیں بخت میں سایہ بھی نہیں
ہر گھڑی مجھ پہ نظر ہے جو قیامت کی ہے
میں نے ہر حال میں اوروں سے محبت کی ہے
خواب دیکھے ہیں نہ خوابوں کا بسایا ہے نگر
ایک بچے کی طرح روز ہی کرتا ہوں سفر
میری منزل ہے نہ کوئ میرا راستہ ہے ادھر
میں بھٹکتا ہوں ہر ایک شہر میں اب شام وسحر
یہ سزا مجھ کو ملی میری شرافت کی ہے
میں نے ہر حال میں اوروں سے محبت کی ہے
مال و زر کے لئے ہر چیز لٹانے کا نہیں
میں طلبگار محبت کا زمانے کا نہیں
زخم کھایا ہے جو دل پر وہ دکھانے کا نہیں
میں وہ پنچھی ہوں کہ اپنے ہی ٹھکانے نہیں
میں نے کردار کی عظمت کی حفاظت کی ہے
میں نے ہر حال میں اوروں سے محبت کی ہے
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






