پھوُلوں پہ شبنم کے ہیں لا مُتناہی سلسلے
Poet: قیصر مُختار By: قیصر مُختار, ہانگ کانگپھوُلوں پہ شبنم کے ہیں لا مُتناہی سلسلے
اُس زُلف ِ برہم کے ہیں لا مُتناہی سلسلے
انسانی مقدر کی جب سے کھِینچی گئی لکیر
انسانوں کے غم کے ہیں لا مُتناہی سلسلے
اپنے دم پہ جب سے ہم نے جینا آخر سیکھ لیا
رستوں کے زیرو بم کے ہیں لا مُتناہی سلسلے
رشتوں کی خاطر لاکھ جتن کرکے ہمنے دیکھ لیا
رشتوں کے جوروستم کے ہیں لامتُناہی سلسلے
روزگارِ زمانہ نے ہمیں کیا کیا گُر سکھلائے ہیں
لیَل و نِہار کے غم کے ہیں لا مُتناہی سلسلے
بچوں کی خاطرماؤں نےکس قدر دُکھ جھیلا ہے
ماؤں کے دیدہء نم کے ہیں لا مُتناہی سلسلے
دَم ہے تو ہمدم ہے دَم ہی سے ابنِ آدم ہے
اِس دم کےاِس آدم کے ہیں لا مُتناہی سلسلے
بٹ کے رہ گئی قوم ، ادیان اور فرقوں میں
اس نسل ِ آدم کے ہیں لا مُتناہی سلسلے
جہد میں ہے پنِہاں قیصر جوہَر نسلِ انساں کا
اور کوششِ پیہم کے ہیں لا مُتناہی سلسلے
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






