پہچانو ان خوبصورت چہروں کو
Poet: hasanpurki By: m.hassan, karachiپہچانو ان چہروں کو
جو آگ لگاتے ہیں بسوں اور دکانوں کو
جو توڑ پھوڑ کرتے ہیں سرکاری چیزوں کو
جو لوٹتے ہیں اپنے ہی لوگوں کو
جو چھینتے ہیں بہنوں سے زیور کو
جو اتارتے ہیں کانوں سے بندوں کو
جو یتیم کرتے ہیں چھوٹے بچوں کو
جو سہاگ اجاڑتے ہیں بیٹیوں کے
جو نشہ پلاتے ہیں جوانوں کو
جو برباد کرتے ہیں نسلوں کو
جو قتل کرتے ہیں بے گناہوں کو
جو ویراں کرتے ہیں شہروں کو
جو اغوا کرتے ہیں بھائیوں کو
جو یرغمال بناتے ہیں لوگوں کو
جو آگ لگاتے ہیں سرکاری خزانے کو
جو دورے کرتے ہیں بیرونی ملکوں کو
جو بے دردی سے لٹاتے ہیں زکات کے پیسوں کو
بڑے لوگ جاتے ہیں ہر سال حج و عمرہ کو
پہچانو ان خوبصورت چہروں کو
جو ڈھکے ہوئے ہیں بدصورت چہروں کو
سر درد کے علاج کے لئے بھی دوڑتے ہیں لندن امریکا کو
اپنے باپ کا مال سمجھ کر قربان کرتے ہیں سرکاری خزانے کو
عوام صبح و شام بلک رہے ہیں مہینگائی کو
ترس رہے ہیں غریب صبح و شام روٹی پانی کو
دھائی دے رہے ہیں روٹی کپڑا اور مکان دینے والوں کو
کب تک جیئیں گے یاد کرکے خالی خولی منشور کو
مت ضائع کر آئندہ کبھی اپنے ووٹوں کو
کئی بار آزمایا ہے ہم نے ان بے غیرت لوٹوں کو
بل وصول کرتے ہیں سب سے پانی دیتے ہیں کسی کسی کو
ہم نہیں مانتے ایسوں کو ہم نہیں مانتے ویسوں کو
کیا ظالم دور آیا ہے ہر معاملہ میں بلاتے ہیں چیف جسٹس کو
کسی بچہ کو دودھ نہ ملنے پر آواز دی چیف جسٹس کو
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






