پیار
Poet: Mubashar By: Mubashar Islam, lahoreاک غزل وہ بھی سنائے تو مزہ آ جائے
کچھ آنسو وہ بھی بہائے تو مزہ آجائے
کہہ دو ساقی سے میرا غم بہت گہرا ہے
وہ نظروں سے پلائے تو مزہ آجائے
سن کے میرا غم وہ بہت روئیں گے
آج پھر محفل میں بلائیں تو مزہ آجائے
نفرت ہی سہی کوئی رشتہ تو قائم ہے
وہ دشمنی بھی نبھائے تو مزہ آجائے
اس زہر کو بھی (جان)ہم جام سمجھ لینگے
اگر وہ اپنے ہاتھوں سے پلائے تو مزہ آجائے
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






