پیہم ہیں دوستو
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, Quettaاشکوں سے اپنی آنکھیں ہی پرنم ہیں دوستو
"اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو"
ایسی ہوئی خطا کہ معافی نہ مل سکی
غیروں کو چھوڑ اپنے بھی برہم ہیں دوستو
ہر سمت ہم کو درد ہی سایہ فگن ملا
مایوسیوں کے وار ہی پیہم ہیں دوستو
مجنوںؔ تھا قیسؔ نام کا پھر اس کے بعد ہم
تھامے ہوئے جو عشق کا پرچم ہیں دوستو
کتنا ہے جان کاہ غمِ روز گار بھی
مدغم اسی میں اور سبھی غم ہیں دوستو
دیکھو متاعِ درد کے کتنے حریص ہم
ڈھیروں ملے ہیں رنج مگر کم ہیں دوستو
ہم بے خبر مجاز کے پیچھے پڑے رہے
اس بے طرح سے بھاگے کہ بے دم ہیں دوستو
اپنا علاج یار کی صورت میں ہے نہاں
ہیں زخم بھی وہی، وہی مرہم ہیں دوستو
اک بار آ کے دیکھ لیں جیون کا کیا پتہ
ان سے کہو چراغ یہ مدھم ہیں، دوستو
ہر گھر میں آئے دن کے جو ماتم ہیں، ذمہ دار
حیوان تو نہیں ہیں، ارے ہم ہیں دوستو
حسرتؔ کے حق میں حق نے جو تحریر کر دیا
اس کی رضا کے آگے سرِ خم ہیں دوستو
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






