چاند کو چھوڑ کر ستاروں کی بات کرتے ہیں

Poet: Naveed Ahmed Shakir By: Naveed Ahmed Shakir, Multan

چاند کو چھوڑ کر ستاروں کی بات کرتے ہیں
ایک کو چھوڑ کر ہزاروں کی بات کرتے ہیں

حالت بیزار میں ہوں نگاہ یار میں ہوں
یعنی منجدھار میں ہوں کناروں کی بات کرتے ہیں

پہرے ہوتے جب ہر سو رہتے دور مگر روبرو
بدل کر انداز گفتگو اشاروں کی بات کرتے ہیں

زندگی کو ہے بیچنا زندگی لینے والا ہے دیکھنا
قیمت کی بات چھوڑ نا خریداروں کی بات کرتے ہیں

وفاؤں کا کچھ حاصل نہیں دشمنوں سے غافل نہیں
وہ میرے باتیں نہیں یاروں کی بات کرتے ہیں

محبت سے منہ موڑ کر ٹوٹا ہوا دل چھوڑ کر
پھر خزاں کو چھوڑ کر بہاروں کی بات کرتے ہیں

Rate it:
Views: 1249
16 Feb, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL