چاہتے ہیں اُسے کتنا

Poet: By: Naveed Iqbal, Karachi

چاہتے ہیں اُسے کتنا اس کو بتا دیا
الفت میں اُس کی ہم نے مٹ کر دکھا دیا

پرستش سے اُس مورت کی فرصت مجھے کہاں
چاہت میں اُس کی میں نے خدا کو بھلا دیا

برسوں جسے مانگا برسوں میں جسے پایا
افسوس چند ہی لمحوں میں اُس کو گنوا دیا

کیا بتاؤں تم کو اس جنونِ عشق میں
کیا پایا میں نے اور کیا لُٹا دیا

دھڑکن میں جو بسا تھا قسمت میں جو لکھا تھا
مت پوچھوں میں نے کیوں اُس کو بھلا دیا

تبسم سجائے پھرتا تھا ہر لمحہ وہ پہلوں میں
آج میری حالت نے اُس کو رلا دیا

حیران ہو رہا ہو خود کو دیکھ کر نوید
کیا سے کیا مجھ کو اُس کی جفا نے بنا دیا

Rate it:
Views: 771
17 Mar, 2008
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL