چل تھوڑا غم میں گزارا کرتے ہیں
کچھ پل کے لیے تم کو ہمارا کرتے ہیں
تم تھے تو خوشیوں کا پتا چلتا تھا
چلو مَحَبّت دوباراکرتے ہیں
اک ہمارے بعد کئی مَحَبّتیں دفن ہونگی
مَحَبّت کا سجدے میں کفارہ کرتے ہیں
کہتے ہیں ہجر میں چہروں پہ دھول اڑتی ہے
چاہتوں کو دھو کر منہ ستارا کرتے ہیں
سنا ہے دعاؤں سے تقدیر بدل جاتی ہے
آئیے اس بات کا استخارہ کرتے ہیں
ناکام عشق مثل موت ہے جانی
چل پھر قبر سے کنارہ کرتے ہیں
اور اس کادل تیرے بغیر کیا کروں گا شاعر
اس کو توڑ کر کچھ ہمار کچھ تمہارا کرتے ہیں