چلتے ہیں
Poet: ڈاکٹر صبا غزالی By: ڈاکٹر صبا غزالی, Karachiچلو اب پھر سے چلتے ہیں
اور اِن سے اُن سے ملتے ہیں
کہ ہو آئیں اس باغ بھی
جہاں پر پھول کھلتے ہیں
ہوئی وہ بات پرانی ہے
کہ سب کی یہ کہانی ہے
کہ سوز و غم کس بات کا
یہ زندگی یہ دکھ فانی ہے
چلو کچھ کرتے ہیں نیا
نہ کوئی جو اب تک کر سکا
برائی ہم ہی روکیں گے
تو پھر کس بات کی حیا
وہ اک دلدل تھی جس میں
ہم غوطے لگاتے تھے
جتنا جتنا ہم چلتے
فقط دھنستے ہی جاتے تھے
مگر اب دَور ہے بدلا
کہ اپنے غیر ہیں سارے
اور غیر تو غیر ہی ٹھہرا
پھر کیوں ڈھونڈیں سہارے
سو گر چلتے ہو تو بولو
سلے لب اب تم کھولو
مجھے تو جانا ہی ہوگا
اپنی منزل تم خود بولو
میرے جذبات سچے ہیں
جنون بہت سا ہے باقی
جفا کبھی نہ کی میں نے
بات تو بس ہے وفا کی
کہ تم میں خیر لگتی ہے
تو تم کیوں کر رکتے ہو
جو لڑ سکتے ہو تم
تو جھک کر کیوں کر چلتے ہو
یہ وقت تو کڑا ہے
پر کوشش کا اجر بڑا ہے
بڑھائو بس ایک قدم تم
اللہ تھامنے کو کھڑا ہے
سنو کچھ ہلتے جلتے ہیں
کہ تھوڑی ہمت کرتے ہیں
سنو اے دلِ نایاب
چلو اب پھر سے چلتے ہیں
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






