چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تارا بنا ڈالا

Poet: By: Uzma Ahmad, Lahore

چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تارا بنا ڈالا
میری آوارگی نے مجھ کو آوارہ بنا ڈالا

بڑا دلکش بڑا رنگین ہے یہ شہر کہتے ہیں
یہاں پر ہیں ہزاروں گھر گھروں میں لوگ رہتے ہیں

مجھے اس شہر نے گلیوں کا بنجارہ بنا ڈالا
چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تارا بنا ڈالا
میری آوارگی نے مجھ کو آوارہ بنا ڈالا

میں اس دنیا کو اکثر دیکھ کر حیران ہوتا ہوں
نہ مجھ سے بن سکا چھوٹا سا گھر دن رات روتا ہوں

خدایا تو نے کیسے یہ جہاں سارا بنا ڈالا
چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تارا بنا ڈالا
میری آوارگی نے مجھ کو آوارہ بنا ڈالا

میرے مالک میرا دل کیوں تڑپتا ہے سلگتا ہے
تیری مرضی، تیری مرضی پہ کس کا زور چلتا ہے

کسی کو گل کسی کو تو نے انگارہ بنا ڈالا
چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تارا بنا ڈالا
میری آوارگی نے مجھ کو آوارہ بنا ڈالا

یہی آغاز تھا میرا یہی انجام ہونا تھا
مجھے برباد ہونا تھا مجھے ناکام ہونا تھا

مجھے تقدیر نے تقدیر کا مارا بنا ڈالا
چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تارا بنا ڈالا
میری آوارگی نے مجھ کو آوارہ بنا ڈالا

Rate it:
Views: 1527
12 Oct, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL