چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تارہ بنا ڈالا

Poet: نامعلوم By: m,masood, nottingham

چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تارہ بنا ڈالا
میری آوارگی نے مجھ کو آوارہ بنا ڈالا

بڑا دلکش، بڑا رنگین ہے یہ شہر کہتے ہیں
یہاں پر ہیں ہزاروں گھر، گھروں میں لوگ رہتے ہیں

مجھے اس شہر نے گلیوں کا بنجارہ بنا ڈالا
میری آوارگی نے مجھ کو آوارہ بنا ڈالا

میں اس دینا کو اکثر دیکھ کر حیران ہوتاہوں
نہ مجھ سے بن سکا چھوٹا سا گھر حیران ہوتا ہوں

خدایا تو نے کیسے یہ سارا جہاں بنا ڈالا
میری آوارگی نے مجھ کو آوارہ بنا ڈالا

یہی آغاز تھا میرا، یہی انجام ہونا تھا
مجھے برباد ہونا تھا، مجھے ناکام ہونا تھا

مجھے تقدیر نے تقدیر کا مارا بنا ڈالا
میری آوارگی نے مجھ کو آوارہ بنا ڈالا

میرے مالک میرا دل کیوں تڑپتا ہے سَلگتا ہے
تیری مرضی تیری مرضی پر کس کا زور چلتا ہے

کسی کو گل کسی کو تو نے آنگارہ بنا ڈالا
میری آوارگی نے مجھ کو آوارہ بنا ڈالا

Rate it:
Views: 655
01 Sep, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL