چھوڑ جانے پہ پرندوں کی مُذمت کی ہو

Poet: احمد خلیل By: نعمان علی, Rawalpindi

چھوڑ جانے پہ پرندوں کی مُذمت کی ہو
تُم نے دیکھا ہے کبھی پیڑ نے، ہجرت کی ہو

جُھولتی شاخ سے چُپ چاپ جُدا ہونے پر
زرد پتوں نے ہواؤں سے شِکایت کی ہو

اب تو اتنا بھی نہیں یاد کہ کب آخری بار
دِل نے کُچھ ٹُوٹ کے چاہا، کوئی حسرت کی ہو

عُمر چھوٹی سی مگر شکل پہ جھُریاں اتنی
عین ممکن ہے کبھی ہم نے بھی مُحبت کی ہو

دِل شکستہ ہے کوئی ایسا ہُنرمند بتا
جِس نے ٹُوٹے ہُوئے شِیشوں کی مُرمت کی ہو

شب کے دامن وُہی نُور بھریں گے احمد
جِن چراغوں نے اندھیرے سے، بغاوت کی ہو

Rate it:
Views: 2613
07 Mar, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL