اک نیٹ کی لڑکی ہوں
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaمیری باتوں پر کوئی
اعتبار نہیں کرتا
کیوں کی میں اک
نیٹ کی لڑکی ہوں
مجھ سے کوئی
سچا پیار نہیں کرتا
کیوں کی میں اک
نیٹ کی لڑکی ہوں
میری تصویریں یو ہی
دوستوں میں دیکھائی جاتی ہیں
کیوں کی میں اک
نیٹ کی لڑکی ہوں
میری عزت کوئی معنی
نہیں رکھتی کسی کے لیے
کیوں کی میں اک
نیٹ کی لڑکی ہوں
میری وفا کو بھی
لوگ چال سمجھتے ہیں
کیوں کی میں اک
نیٹ کی لڑکی ہوں
میرے منہ پر مجھے
اچھا مگر حقیقت میں
اچھا نہیں سمجھتے
کیوں کی میں اک
نیٹ کی لڑکی ہوں
مجھ سے بات تو ہر کوئی کرنا
چاہتا ہیں مگر اپنا بنانا نہیں
کیوں کی میں اک
نیٹ کی لڑکی ہوں
میری معصومیت کو بھی
لوگ ڈرامہ کہتے ہیں
کیوں کی میں اک
نیٹ کی لڑکی ہوں
دل و جان سے بھی زیادہ کیا پیار
مگر ُاس نے کیا نہیں یقین
کیوں کی میں اک
نیٹ کی لڑکی ہوں
کسی کا انتظار کرنا
اور پھر صبح سے شام کرنا
مگر وہ سمجھا نہیں
کیوں کی میں اک
نیٹ کی لڑکی ہوں
مجھے دکھ یہ نہیں کہ
تو نےالزام لگایا
مجھے دکھ تو اس بات کا ہیں
کہ میں سولہ گھنٹےتیرے سامنے
تڑپتی رہی اورتو نے اک بار
حال بھی نا پوچھا میرا
کیوں کی میں اک
نیٹ کی لڑکی ہوں
میرا آن لائن ہونا تو صرف
ُاس خاص کے لیے تھا
مگر وہ سمجھا کےنجانے
کتنے ہیں دوست میرے
کیوں کی میں اک
نیٹ کی لڑکی ہوں
سالوں کی رافقت کو بھلا کر
اپنی زندگی سے نکال دیا
فقظ ڈیلیٹ کر کے
کیوں کی میں اک
نیٹ کی لڑکی ہوں
کیا نیٹ پر کسی کو سچی محبت
نہیں ہو سکتی پوچھا سب مگر
کسی نے نہیں دیا جواب
کیوں کی میں اک
نیٹ کی لڑکی ہوں
( ایک نہیں ہزاروں لڑکیوں کی سچی کہانی )
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔







