ڈھونڈ ہی لیتا ہے مجھے نت نئے بہانے سے یارو

Poet: Muhammad Tanveer Baig By: Muhammad Tanveer Baig, Islamabad

ڈھونڈ ہی لیتا ہے مجھے نت نئے بہانے سے یارو
غم ہو گیا ہے واقف میرے ہر ٹھکانے سے یارو

چلا جاتا ہے ھمیشہ کچھ نئے درد دے کر
باز وہ کبھی نہیں آتا مجھے آزماتے سے یارو

کچھ کہیں تو رسوائی ہے چپ رہیں تو بے وفائی ہے
میں نکل ہی نہیں پاتا ان تانے بانے سے یارو

نظر اب ہم پے اٹھتی ہی نہیں ان کی محفل میں کبھی
ہم قدر ہی گنوا بیٹھے ہیں روز آنے جانے سے یارو

یہاں ان گنت درد ہیں یہ ایک دو کی تو بات نہیں
یہ دل کب سمبھلتا ہے اک آدھ غم بھلا تے سے یارو

ماضی کے اس زخم کو اور مت کریدو کے تم کو
غم کے سوا اور کیا ملے گا اس غریب خانے سے یارو

بتاؤ کیا پایا کیا کھویا زندگی سے تم نے اے تنویر
رہے خود سے بھی اجنبی اور رہے اجنبی زمانے سے یارو

Rate it:
Views: 1431
06 Jul, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL