کاغذی پھول کی صورت ہے محبت ہے اس کی

Poet: farkhanda razvi By: فرخندہ رضوی, Reading

کاغذی پھول کی صورت ہے محبت ہے اس کی
پھر بھی گھٹتی نہیں احساس میں چاہیت اس کی

کبھی جینے نہیں دیتا تصور اُس کا
کبھی مرنے نہیں دیتی محبت اُس کی

ایسے ویسے کو وہ خاطر میں کہاں لاتے ہیں
خوش نصیبوں پہ ہی ہوتی ہے عنایت اُس کی

وہ اگر چاہئے تو مُردوں کو جِلا دیتا ہے
دیکھنے والوں نے دیکھی ہے کرامت اُس کی

موم ہوتا ہی نہیں جب کہ وہ پتھر کا صنم
پھر بھی دیکھیں گے کبھی کر کے عبادت اُس کی

یہ میری سچی محبت کا کرشمہ ہی تو ہے
پہلے ایسی نہ تھی اب جیسی ہے حالت اُس کی

اُس سے انصاف کی اُمید نہ رکھ خندہ
عدل اُسکا ہےسپہ اُس کی عدالت اُس کی

Rate it:
Views: 484
15 Jun, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL