کالج میں جو گزرا دسمبر۔۔۔۔۔۔۔
Poet: Shaheen Mughal By: Shaheen Mughal, gjn,Pakistan دوستوں کا مل کے کالج جانا
وہ راستے میں دبی سی ہنسی
اور بات بات پہ مسکران
ہر غم سے نا آشن
وہ دن بھر کا حساب لگان
کہ آج اس سہانےدل لبھانے
والے موسم میں
کونسا پیریڈ فری ہو گ
اور کیمسٹری کے پیریڈ سے
جان چھڑانا
پھر لیبارٹری میں ہیپی نیوائیر کے
کارڈز بنا کے چپکے سے ایکدوسرے
کے بیگز میں رکھن
وہ دھند کے بادلوں میں
بارش کی پھوار میں
فرینڈ شپ روڈ پہ بار بار چکر لگان
اپنے خوابوں کی تعبیر کے لئے
ہاتھوں پہ ہاتھ رکھ کے زندگی میں
آگے بڑھنے کا عہدو پیمان کرن
وہ کالج کینٹین پہ جا سموسےاملی
کی چٹنی کا لطف اٹھان
وہ دوستوں کا مجھےکتابی کیٹرا
کہ کے چڑانا
میری کتابوں کا چھپان
پھر روٹھنمنان
معصوم سی شرارتوں پہ
خوب قہقہے لگان
وہ سنبل کے درخت کے نیچے
دامن پھیلائے پھولوں کے گرنے
کا انتظار کرن
وہ تصنع سے پاک محبتوں کا ایک
دوسرے پہ نچھاور کرنا
وہ اب تمام لمحے خواب ہوئے
آنکھوں سے بھی آنسو آزاد ہوئے
نجانے کتنے دسمبر بیت جائیں گے
مگر
کالج میں جو گزرا دسمبر۔۔۔۔
کبھی لوٹ کے نہ آئے گ
کبھی لوٹ کے نہ آئے گ
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






