کبھی ساون کو کُھل کُھل کر برستا دیکھ لیتا ہوں

Poet: Sain Naz Hussain Naz By: Najeeb Ur Rehman, Lahore

کبھی ساون کو کُھل کُھل کر برستا دیکھ لیتا ہوں
کبھی اِک بوند کو ساون ترستا دیکھ لیتا ہوں

گداؤں کو کبھی دیکھا ہے مَیں نے شہنشاہ ہوتے
کبھی شاہوں کے ہاتھوں میں بھی کاسہ دیکھ لیتا ہوں

کبھی انساں کے سینوں میں بھی پتھر کے جِگر دیکھے
کبھی پتھر میں شیشے کا کلیجہ دیکھ لیتا ہوں

تماشہ دیکھنے والے تماشہ بن بھی جاتے ہیں
تماشہ بن کے خود اپنا تماشہ دیکھ لیتا ہوں

سَدا جیسے کو تیسے کی روایت تو پرانی ہے
کوئی جیسا مجھے دیکھے، مَیں ویسا دیکھ لیتا ہوں

مُجھے کعبے کو جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی
مَیں اپنے دل میں ہی کعبے کا کعبہ دیکھ لیتا ہوں

تبھی اب تک کسی سے بھی، وفا نہ مل سکی شاید
وہ ویسا تو نہیں ہوتا، مَیں جیسا دیکھ لیتا ہوں

بہر صورت، بہر حالات جینا مُجھ کو آتا ہے
مَیں ہر حالات میں جینے کا رستہ دیکھ لیتا ہوں

سمندر کے بھی سینے میں کسی کی پیاس ہوتی ہے
مَیں ساگر کو بھی اکثر ناز پیاسا دیکھ لیتا ہوں

Rate it:
Views: 895
19 Jul, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL