کبھی ساون کو کُھل کُھل کر برستا دیکھ لیتا ہوں
Poet: Sain Naz Hussain Naz By: Najeeb Ur Rehman, Lahoreکبھی ساون کو کُھل کُھل کر برستا دیکھ لیتا ہوں
کبھی اِک بوند کو ساون ترستا دیکھ لیتا ہوں
گداؤں کو کبھی دیکھا ہے مَیں نے شہنشاہ ہوتے
کبھی شاہوں کے ہاتھوں میں بھی کاسہ دیکھ لیتا ہوں
کبھی انساں کے سینوں میں بھی پتھر کے جِگر دیکھے
کبھی پتھر میں شیشے کا کلیجہ دیکھ لیتا ہوں
تماشہ دیکھنے والے تماشہ بن بھی جاتے ہیں
تماشہ بن کے خود اپنا تماشہ دیکھ لیتا ہوں
سَدا جیسے کو تیسے کی روایت تو پرانی ہے
کوئی جیسا مجھے دیکھے، مَیں ویسا دیکھ لیتا ہوں
مُجھے کعبے کو جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی
مَیں اپنے دل میں ہی کعبے کا کعبہ دیکھ لیتا ہوں
تبھی اب تک کسی سے بھی، وفا نہ مل سکی شاید
وہ ویسا تو نہیں ہوتا، مَیں جیسا دیکھ لیتا ہوں
بہر صورت، بہر حالات جینا مُجھ کو آتا ہے
مَیں ہر حالات میں جینے کا رستہ دیکھ لیتا ہوں
سمندر کے بھی سینے میں کسی کی پیاس ہوتی ہے
مَیں ساگر کو بھی اکثر ناز پیاسا دیکھ لیتا ہوں
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے







