کبھی ظلمتوں میں سفر کیا کبھی روشنی میں ٹھہر گئے
Poet: سدرہ سبحان By: Sidra Subhan, Kohatکبھی ظلمتوں میں سفر کیا کبھی روشنی میں ٹھہر گئے
غم دوست تری تلاش میں کبھی جی اٹھے کبھی مر گئے
اے ہجوم شہر مسافراں، تجھے کیا خبر میری داستاں
کہ جو لوگ میرے قدم چلے وہ مثال گرد سفر گئے
وہ جو لوگ میرے قریب تھے انہیں فاصلوں نے بدل دیا
جنہیں دوریوں کا گمان تھا میری چشم خوش میں اتر گئے
کبھی یوں ہوا ترے درد نے مجھے دشت جاں سے نجات دی
کبھی یوں ہوا کہ تیرے کرم مجھے ملنے آئے تو ڈر گئے
کبھی دیکھنا میرے ہمسفر جو دھنک ہماری نظر میں ہے
یہ تمہارے نام کے خواب تھے جو برنگ خواب سحر گئے
غم زندگی، غم بندگی تجھے کیا خبر غم خواجگی
جنہیں دست ناز پہ ناز تھا وہی پروری سے مکر گئے
تیرے حوصلے کی زمین پر ابھی کٹ رہی ہے نشاط غم
دل بےخبر ترے شوق میں مرے ہاتھ زخموں سے بھر گئے
انہیں کوئی مشت یقین دے جو اتر کہ زینہ شام سے
جو رکے تو صبح امید پر جو چلے تو جاں سے گزر گئے
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






