کبھی وقت ملے تو آ جاؤ

Poet: By: Sumera Ataria, GUDDU

کبھی وقت ملے تو آ جاؤ
ہم جھیل کنارے جا بیٹھیں

تم اپنے سُکھ کی بات کرو
ہم اپنے دکھ کی بات کریں

اوران لمحوں کی بات کریں
جو سنگ تمہارے بیت گئے

ہم شہرِخراباں کے باسی
تم چاند ستاروں کی ملکہ

کبھی وقت ملے توآجاو
ہم جھیل کنارےجا بیٹھیں

ان سبزرتوں کے دامن میں
ہم پیار کی خوشبومہکائیں

ان بکھرےمست نظاروں کو
ہم آنکھوں میں تصویر کریں

پتھر پہ گرتے پانی کو
ہم خوابوں سے تعبیرکریں

اُس وقت کےڈوبتےسورج کو
ہم چاہت کی جاگیر کریں

پھراپنے پیار کےجادو سے
ان لمحوں کو زنجیر کریں

کبھی وقت ملے تو آجاو
ہم جھیل کنارے جا بیٹھیں

Rate it:
Views: 1169
17 Jun, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL