کتنی عجیب ہیں یہ یادیں
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaکبھی پلکوں سے آنسو گرا جاتی ہیں
اور کبھی لبوں پے مسکان سجا جاتی ہیں
کتنی عجیب ہیں یہ یادیں
کبھی محفل کو تنہائی اور
کبھی تنہائی کو محفل بنا جاتی ہیں
کتنی عجیب ہیں یہ یادیں
کبھی کچھ پرانے صفحے کھول جاتی ہیں
اور کبھی ان میں آگ لگا جاتی ہیں
کتنی عجیب ہیں یہ یادیں
سورج کو چاند بنا جاتی ہیں اور
کبھی چاند رات کو اندھری رات بنا جاتی ہیں
کتنی عجیب ہیں یہ یادیں
کبھی آنکھوں میں خواب سجا جاتی ہیں
اور کبھی ٹوٹے خوابوں کا محل دیکھا جاتی ہیں
کتنی عجیب ہیں یہ یادیں
کبھی ُاس کے دل کا پیار دیکھا جاتی ہیں اور
کبھی ُاسی پیار پے انکار دیکھاجاتی ہیں
کتنی عجیب ہیں یہ یادیں
کبھی ُاس کا انتظار دیکھا جاتی ہیں اور
کبھی میرا انتظار بھڑا جاتی ہیں
کتنی عجیب ہیں یہ یادیں
کبھی اندر ہی اندر جلا جاتی ہیں اور
کبھی دل کو اک تسقین دیلا جاتی ہیں
کتنی عجیب ہیں یہ یادیں
کبھی کانوں میں ُاس کی آواز سنا جاتی ہیں
اور کبھی ُاس کی تلخیوں کا روپ دیکھا جاتی ہیں
کتنی عجیب ہیں یہ یادیں
کبھی ہمیں موم بنا جاتی ہیں اور
کبھی موم سے پتھر بنا جاتی ہیں
کتنی عجیب ہیں یہ یادیں
کبھی ُامید دیکھا جاتی ہیں اور
کبھی دنیا کی ریتھ دیکھا جاتی ہیں
کتنی عجیب ہیں یہ یادیں
کبھی لبوں پےدعا سجا جاتی ہیں اور
کبھی دعاؤں سے یقین ُاٹھا جاتی ہیں
کتنی عجیب ہیں یہ یادیں
کبھی ُاسے ّا پنا بتا جاتی ہیں اور
کبھی ُاسے غیر بتا جاتی ہیں
کتنی عجیب ہیں یہ یادیں
کبھی ُاسے ّبا وفا بتا جاتی ہیں اور
کبھی ُاسے ہرجائی بتا جاتی ہیں
کتنی عجیب ہیں یہ یادیں
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






