کراچی کے حالات پر ۔۔۔۔۔۔
Poet: ندیم مراد N A D E E M M U R A D By: ندیم مراد N A D E E M M U R A D, UMTATA RSAشہر کو گھیر لے تاریکی سرِشام اب کے
شہر کا نام تو بس رہ گیا ہے نام اب کے
اپنے ہی گھر میں سکوں ملنا ہے دشوار بہت
جنگلوں میں ہی چلو کرنے کو آرام اب کے
میں نے جنگل جو کہا شہر کو ، جگنو بولا
تھا فقط میرا ہی گھر ، کرنے کو بدنام اب کے
ایک کیاری پہ بھٹکتی ہوئی تتلی دیکھی
کہتی تھی شہر کے گل تو ہیں ، خوں آشام اب کے
کھیلتے کودتے جن گلیوں میں ہوتے ہیں جواں
ان جوانوں کے ہیں خوں رنگ درو بام اب کے
انّا لِلّلہ جو ہوئے لقمہ ء دہشت گردی
چلتے پھرتے بھی تو بے روح سے اجسام اب کے
فاختاؤں سے جو پوچھا تو وہ یوں گویا ہوئیں
امن کی آشا لگےآرزوئے خام اب کے
باندھ کر سر سے کفن گھر سے نکلیئے ہر روز
یا تو پھر چل ہی پڑیں اوڑھ کے احرام اب کے
شہر کی بُلبلیں روتے ہوئے کہتی ہیں ندیم
گیت کیا گائیں بسیروں پہ ہے کہرام اب کے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






