کس سے کہیں احوال دل

Poet: UA By: UA, Lahore

کس سے کہیں احوال دل
کس کو سنائیں حال دل
تنہائیوں کا جال ہے
بیگانگی کی چال ہے
اک بیکراں ہجوم ہے
اطوار میں اطراف میں
بیگانگی کا ساتھ ہے
لیکن انہی احباب میں
جو میرے ہیں وہ دور ہیں
جو پاس ہیں میرے نہیں
کوئی تو ہوتا ہم نفس
کوئی تو کہتا ہم نفس
الفاظ کے انبار ہیں
اقوال ہیں افکار ہیں
لیکن کوئی کس سے کہے
کوئی ہم زباں ملتا نہیں
کوئی ہم نوا ملتا نہیں
تم آؤ تو تم سے کہیں
اپنی کہانی ہم نشیں
اپنی زبانی ہم نشیں
تم آؤ تو تم سے کہیں
اپنی کہانی ہم نفس
کوئی راز داں ملتا نہیں
کوئی ہم نوا ملتا نہیں
تنہائیوں کے دشت میں
کوئی سارباں ملتا نہیں
اس اجنبی کو راہ میں
کوئی کارواں ملتا نہیں
کس سے کہیں احوال دل
کس کو سنائیں حال دل

Rate it:
Views: 533
11 Mar, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL