کسی آواز کا مجھ کو سہارا تک نہیں تھا
Poet: سید سلمان حیدر نقوی By: Salman Naqvi, Lahoreکسی آواز کا مجھ کو سہارا تک نہیں تھا
میرے اندر میرے سوا کوئی دوسرا تک نہیں تھا
میں اپنی ذات کے صحرا میں تنہا چل رہا تھا
میری منزل کا کوئی رستہ دور تک نہیں تھا
بہت چاہا کہ رکھ دوں سر کسی کے شانے پر اک پل
مگر قسمت میں ایسا کوئی شانہ تک نہیں تھا
میرے ہونٹوں پہ ٹھہری تھی فقط خاموش سی ہنسی
میری آنکھوں میں جو گزرا، وہ کسی نے پڑھا تک نہیں تھا
میں اپنے زخم سینے میں لیے پھرتا رہا برسوں
میرا دکھ میرے چہرے سے مگر چھپا تک نہیں تھا
میں خود کو تھام کر بیٹھا رہا ٹوٹا ہوا اندر
میری حالت پہ مجھ سے بڑھ کے کوئی رویا تک نہیں تھا
بہت چہرے تھے میرے گرد، پھر بھی دل اکیلا تھا
ہجومِ شہر میں اپنا کوئی چہرہ تک نہیں تھا
سلمانؔ اپنے ہی سینے سے لپٹ کر رات بھر رویا
میری حالت میرے سوا کوئی سمجھنے والا تک نہیں تھا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






