کسی ابر کی مانند
Poet: Nisar Zulfi By: Nisar Zulfi, Lahoreکسی ابر کی مانند وہ بھی آج پھوٹ کے شائد رویا ہوگا
ہجر کی لمبی راتوں میں کون کہاں پھر سویا ہوگا
وہ راہ بدل کے چلتا ہے روز کسی امید پہ جو
لگتا ہے کسی موڑ پہ اس نے کارواں کوئی کھویا ہوگا
مجھے رخصت کرنا تیرے لئے یوں کبھی آسان نہ تھا
کتنی نادان سوچ ہے یہ، کون کسی کو رویا ہوگا
آ دیکھ میرے ماتھے پہ اب بھی، آخری وقت کا پسینہ ہے باقی
پھر کس کس داغ کو اے ناداں، دامن سے تو نے دھویا ہوگا
اس کی آنکھوں میں رت جگے کا، اثر کچھ آج واضع نہیں ہے
مدت کے بعد وہ بھی شائد آج کہیں پہ سویا ہوگا
میں الجھ جاؤں ذات میں اپنی، تیری یاد سے مجھ کو پناہ ملے
بڑا خوش بخت انسان ہے جو، خود کو سوچ کے رویا ہوگا
چلو پوچھ آئیں زلفی سے کہ انجام محبت کا کیا ہوا
کوئی بیج وفا کا اس نے بھی، کسی موسم میں شائد بویا ہوگا
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






