کسی پہ دل لٹانا ہے کسی پہ جاں لٹانی ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreاب ایک تسلسل ہے اب ایک روانی ہے
اب رواں دواں اپنے جیون کی کہانی ہے
سمندروں کی لہریں سر اٹھا کے کہتی ہیں
سکوت بحر میں طوفان ہے طغیانی ہے
برف پگھل کے اپنا راستہ بناتی گئی
جمود نے بھی تحرک کی قدر جانی ہے
حیات مختصر اور مستقل قیام کی باتیں
کہ زندگی کی یہ ڈگر تو آنی جانی ہے
طویل عمر پانے والے بھی یہ کہتے رہے
بڑی ہی مختصر یہ اپنی زندگانی ہے
حیات خضر پانے والوں کو بھی جانا ہے
آخر حیات خضر کو بھی ہونا فانی ہے
وہ دیکھو وادی جنوں کی ہواؤں کا رخ
کہ اس کی چال ڈھال آج بھی طوفانی ہے
سنہری جھیل میں رنگین تتلیوں کی شبیہ
ذرا قریب سے دیکھو بڑی سہانی ہے
خودی اور بیخودی کے درمیاں تنہا سی اک لڑکی
کوئی کہتا ہے دانا ہے کوئی کہتا دیوانی ہے
کوئی تحریک نہ سفر، نہ کوئی جستجو
اگرچہ اپنی زندگی زمانی ہے مکانی ہے
پہلے ہاتھ ملانا پھر نظریں چرا کے چل دینا
ادا جدید سہی رسم یہ پرانی ہے
یہ کیا دستور ہے دنیا میں اہل شوق کا عظمٰی
کسی پہ دل لٹانا ہے کسی پہ جاں لٹانی ہے
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






