کسی کو راہ میں چھوڑ جانا، اچھا نہیں ہوتا

Poet: Syed Farrukh Imdad By: Syed Farrukh Imdad, Lahore

کسی کو راہ میں چھوڑ جانا، اچھا نہیں ہوتا
یوں بستے گھر کو توڑ جانا، اچھا نہیں ہوتا

اگر میں کہوں تو خزاں میں بھی پھول کھل جائیں
مگر قدرت کو ایسے ستانا، اچھا نہیں ہوتا

دعاوءں سے وہ لوٹ تو آئے گا لیکن
دریاوءں کو الٹا بہانا، اچھا نہیں ہوتا

ہلچل مچا دیتی ہے تیری شوخ سی ادا
کلائی میں کنگن گھمانا، اچھا نہیں ہوتا

لوگ کرتے نہیں عزت بد زبان کی
ہر بات میں ٹانگیں اڑانا، اچھا نہیں ہوتا

کیوں کرتے ہو ہر بات میں جلدی تم فرخ
کرہ ء ارض کو تیز گھمانا، اچھا نہیں ہوتا
 

Rate it:
Views: 654
28 Aug, 2019
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL