کسی کی اداسی پہ کسی کے دل کو خوشی ہے

Poet: UA By: UA, Lahore

کسی کی اداسی پہ کسی کے دل کو خوشی ہے
یہ کیسی خود غرضی ہے یہ کیسی بے حسی ہے

ایک حقیقت دائم ہے ایک ذات ہی باقی ہے
دنیا کی ہر شے فانی ہر ایک کہانی فرضی ہے

لال گلابی نیلے پیلے اودے پھولوں کے نیچے
مخملیں قالین پہ پھیلی گھاس ہری ہری ہے

ایک ننھی سی بچی پھولوں کے درمیان بیٹھی ہے
دور سے میں نے دیکھا تو یوں لگا کوئی پری ہے

پیار کی جوت جگائے کوئی کسی کا دل نہ دکھائے
بس اتنی سی چاہت ہے بس اتنی سی عرضی ہے

تیس منٹ کو آتی ہے تین گھنٹے کے لئے جاتی ہے
اس بار کی لوڈ شیڈنگ نے تو حد ہی کر دی ہے

کپڑے استری کریں یا موٹر سے پانی بھریں
بجلی چلی جاتی ہے یہ کیسی درد سری ہے

عظمٰی بجلی کے آتے ہی میں تو جلدی جلدی
ہر ایک خالی دیگچی پانی سے بھر دی ہے

Rate it:
Views: 654
09 May, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL