کــوئـــی جـائـــــے طـــور پہ، کہاں اب وہ خـوش نــظـری رہی
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIکــوئـــی جـائـــــے طـــور پہ، کہاں اب وہ خـوش نــظـری رہی
نہ وہ ذوق دیـــدہ وری رہا ، نہ وہ شـــان جـــــلـوہ گـــری رہی
جو خلش ہو دل کو سکوں ملے ، جو تپش ہو سوز دروں ملے
وہ حـیات اصـل میں کـچھ نہیں ، جو حیات غم سے بری رہی
وہ خــزاں کــی گـــرم روی بـڑھــی تو چمن کا روپ جھلس گیا
کـــوئی غــنـچہ سر نہ اٹھا سکا ، کوئی شاخ گل نہ ہری رہی
مـــجــــھے بـس تــرا ہــــی خـــیال تھا تـرا روپ مــیرا جمال تھا
نہ کـــبھـی نــگاہ تھـی حــور پر ، نہ کـبھی نظر میں پری رہی
تـرے آسـتـاں ســــے جـــدا ھــوا تـو سـکـونِ دل نہ مجھے ملا
مـری زنـــدگـــی کـــے نـصـیـب مـیـں جـو رہی تو در بدری رہی
جــو تـرے خـــیال مـیـں گــم ھــوا تـو تـمام وسوسـے مٹ گئے
نہ جۤــنوں کــی جـامہ دری رہــی ، نہ خـرد کی درد سری رہی
مـــجـھے بــنـدگـــی کا مــزا مـلا ، مــجــھے آگــہی کا صلہ ملا
ترے آســــتانِ ناز پـر ، جـو دھــــــری جـبـیـں تــو دھـــــری رہی
یہ مــہ و نـــجـــوم کـــی روشـنی ترے حـسن کا پرتو بدل نہیں
ترا ہــــجـر ، شب کا سہاگ تھا ، مرے غم کی مانگ بھری رہی
رہِ عـــشـق مـیں جـو ھـوا گزر ، دل و جاں کی کچھ نہ رہی خبر
نہ کـــــوئــــی رفــیـق نہ ہم سـفر ، مرے سـاتھ بے خــبری رہی
ترے حاســــدوں کـو مـــلال ھــے ، یہ نـــصــــــیـر فن کا کمال ہے
ترا قـــــول تھا جو ســـــــند رہا ، تری بات تھی جــو کـھـــری رہی
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






