کوئی خود سر بیانی لکھتے ہیں

Poet: اسد رضا By: ASAD, MPK

 کوئی خود سر بیانی لکھتے ہیں
اپنے دکھ درد کی کہانی لکھتے ہیں

یاد ماضی انتہائے تلخ ھے۔
گو اک بلا سر گرانی لکھتے ہیں۔

غیروں پر کوئی بھروسہ نہیں ہمکو۔
سو اسلئے آپ بیتی بیانی لکھتے ہیں۔

کوئی ذرا برابر جھوٹ نہیں شامل!!!۔
دودھ کا دودھ پانی کا پانی لکھتے ہیں۔

کوئی پل بھی نہیں بھولا ہمیں۔
ھے سب یاد دھانی لکھتے ہیں۔۔

کوئی مرچ مصالحہ شامل نہیں۔۔۔
جو ھے سچ سب بیانی لکھتے ہیں۔

اسکے اشاروں کی وہ گونگی زبان۔
بمع دل ہر ترجمانی لکھتے ہیں۔۔

کسی بے وفا کی خود غرضی اسد ۔۔۔
کسی مطلبی کی خود بیانی لکھتے ہیں۔

Rate it:
Views: 508
15 Jul, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL