کوئی سبیل نہیں ہے قضا کے ٹلنے کی

Poet: lost soul By: haseeb khan, karachi

کوئی سبیل نہیں ہے قضا کے ٹلنے کی
سلگ رہا ہوں، دعا مانگتا ہوں جلنے کی

وہ ایک عمر میرے ساتھ ساتھ چلتے رہے
مجھے خبر نہ ہوئی راستوں کے چلنے کی

ان آنسوؤں کو اگر خاک ہی میں ملنا تھا
تو کیا پڑی تھی میری آنکھ سے نکلنے کی

بس ایک دل ہی نہ مانا وگرنہ سارا بدن
گواہی دیتا رہا زندگی کے ڈھلنے کی

وہ خود بھی فیصلے کرتا تھا جلد بازی میں
مجھے بھی بعد میں عادت تھی ہاتھ ملنے کی

مبادہ، تجھ کو کسی طرح کا تاسف ہو
جو گر پڑے اسے مہلت تو دے سنبھلنے کی

میں اس سے ترکِ تعلق کی ٹھان لیتا مگر
اسے تو ضد تھی میری آستین میں پلنے کی

Rate it:
Views: 638
25 Apr, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL