کوئی نہ ہو
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہجانِ جاں کوئی نہ ہو، جانِ جہاں کوئی نہ ہو
آہ سِینے میں کوئی، لب پر فُغاں کوئی نہ ہو
آؤ ڈُھونڈیں ہم محبّت، آؤ ڈُھونڈیں آدمی
خاک میں لِتھڑا نہِیں ہو، خُونچکاں کوئی نہ ہو
کون سُنتا ہے تُمہیں اے شاعرِ ناداں، کہ جب
کُچھ سلِیقہ ہی نہ ہو، طرزِ بیاں کوئی نہ ہو
ساتھ میرے چل پڑے ہو، فرض کرتے ہیں، اگر
راہ میں گُلشن نہ ہو، اور گُلستاں کوئی نہ ہو؟؟
ہم بھٹکتے پِھر رہے ہوں راستے میں اور، کل
کوئی مرقد، خانقاہ و آستاں کوئی نہ ہو
آئنے ٹُوٹے ہُوئے ہیں اور شکستہ صورتیں
اے مُصوّر جوڑ اِن کو یُوں، نِشاں کوئی نہ ہو
اُس نے یارو پاس رکھے ہیں امانت راز کُچھ
ڈر لگا ہے بے خیالی میں عیاں کوئی نہ ہو
ہم نے مانا دِل نے پالا تھا کوئی اِک پریم روگ
وہ جوانی کیا کہ جِس کی داستاں کوئی نہ ہو
ہر طرف تابانیاں ہیں، ہر طرف اِک روشنی
ہم جہاں پہنچے وہ حسرتؔ، کہکشاں کوئی نہ ہو
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






