ہو ترقّی میں

Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہ

وہ مُجھ سے جل کے یہ بولے کہ ہو ترقّی میں
ہضم یہ بات نہ ہو تُم رہو ترقّی میں

اُنہیں زوال کا کھٹکا کبھی نہیں ہوتا
خُدا کی یاد جگاتے ہیں جو ترقّی میں

یقین ہے کہ عقِیدت عُرُوج پائے گی
نِگاہیں پائیں گی جب آپ کو ترقّی میں

وگرنہ اُن کی حقِیقت کبھی نہِیں کُھلتی
ہُؤا ہے عُقدہ کوئی حل چلو ترقّی میں

عجِیب بات، ہمیں تُم نے کیسے یاد رکھا
بُھلایا جائے جہاں باپ کو ترقّی میں

جلن ہے تُم کو اگر ہم سے تو عِلاج کرو
دِيا ہے کیا تُمہیں نُقصاں کہو ترقّی میں

کما لِیا ہے بہُت کُچھ حیات میں ہم نے
جو تُم نہِیں تو رہا کیا ہے سو ترقّی میں

کہِیں بھلا تھا کہ ہم جھونپڑوں میں رہ لیتے
زوال آیا ہمیں دیکھ لو ترقّی میں

رشِیدؔ لوگوں کی باتوں سے جہل جھانکتا ہے
وگرنہ دیکھنے کو ہیں یہ گو ترقّی میں

Rate it:
Views: 358
26 Sep, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL